حقیقت الٰہی ۔ بزرگ و برتر خدا کون ہے؟

خدا کے بارے میں مسیحیوں کا ایمان کیا ہے؟ مسیحی اسے اپنا رب العالمین کیسے مانتے ہیں؟

Transcript

 

تلاش  وہ جذبہ ہے جو دل میں  کچھ کرنے اور پانے کی امنگ پیدا کرکے متلاشی کو اس کی منزل تک لے جاتا ہے۔ اسی جذبے سے شرسار ہو کر ہمارے بہت سے دوست اکثر مسیحی ایمان کے بارے میں مختلف سوالات پوچھتے رہتے ہیں کہ آخر مسیحی ایمان ہے کیا؟ ہم نے سوچا  کیوں نہ پروگراموں کا ایسا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں مسیحی ایمان پر بھرپور روشنی ڈالی جائے تاکہ  غیر مسیحی دوستوں کے شکوک اور شبہات بھی دور ہوجائیں اور سچائی بھی کھل کر سامنے آجائے۔ تو پیش خدمت ہے مسیحی عقائد اور فرائض پر مبنی پروگرام ۔۔۔ ایمان و عمل

دنیا میں کروڑہا لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسیحی کہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو واقعی مسیح کے پیروکار ہیں اور کچھ بس نام کے مسیحی ہیں ۔ ہمارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ تو مسیح کی تعلیم پر دل وجان سے عمل کرنے کے باعث مسیحی ہیں اور کچھ محض مسیحی خاندان میں جنم لینے اور مسیحی نام رکھنے کی وجہ سے مسیحی ہیں۔ ہم مسیحی بھی باقی مذاہب کی طرح مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہماری تعلیم اور طریقہ عبادت میں کچھ فرق بھی ہے ۔ ہم وقت کی کمی کے باعث تمام فرقوں کی تعلیم اور ایمان کی وضاحت نہیں کر سکتے مگر جو کچھ ہم اس پروگرام میں مسیحی ایمان و عمل کے بارے میں بیان کرینگے جس سے بیشتر مسیحیوں کو اتفاق ہوگا کیونکہ ہمارا ماخذ کلام مقدس ہے۔  آج کا موضوع ہے:

حقیقت الٰہی ۔  بزرگ و برتر خدا کون ہے؟

معزز ناظرین ! ہماری یہ دلی دعا ہے کہ مسیحی ایمان و عمل کے بارے میں خدائے قادر و مطلق آپ کو اپنی ذات پاک،  اپنی لازوال محبت ، قربت اور بنی نوع انسان کے لئے اپنے اعلیٰ ترین مقصد کی بہتر طور پر سمجھ عطا کرے۔ تاکہ آپ حکمت اور دانش سے اسکی عبادت اور پرستش کر سکیں۔ تو آئیے بغیر تعصب اور کسی حسد کے ان سوالات پر غور کریں جو اکثر مسیحی ایمان کے بارے میں پوچھے جاتے ہیں ۔

ہمارے بیشتر غیر مسیحی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مسیحی ایمان کے مطابق خدا کون ہے؟ یعنی خدا کے بارے میں مسیحیوں کا ایمان کیا ہے؟ مسیحی اسے اپنا رب العالمین کیسے مانتے ہیں؟

 ہر مذہب میں اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ اس کا خدا کے بارے میں نظریہ کیا ہے ۔ ہم بخوبی جانتے ہیں ۔ کہ کچھ متعصب قسم کے لوگ بغیر سوچے سمجھے ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ مسیحی تین خداؤں پر ایمان رکھتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں  جو کہتے ہیں کہ مسیحی صلیب اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ مگر آپ یقین کیجئے کہ یہ سب بہتان اور سراسر جھوٹ ہے ۔ ہم مسیحیوں پر یہ ایسا الزام ہے جسکا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔

بائبل کی ابتدا ہی خدا کی ذات کی موجودگی سے شروع ہوتی ہے اور بتاتی ہے۔ ’ابتدا میں خدا نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا‘ (پیدائش ۱:۱) اس کتاب میں  جس خدا کو بیان کیا گیا ہے یہ وہی خدا ہے جس نے کائنات کو تخلیق کیا۔ وہ بالاتر ، سب جاننے والا، قادر مطلق اور ہمیشہ سے موجود ہے۔ وہ فرماتا ہے ’ میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں۔ میرے سوا کوئی خدا نہیں۔ ُ ۔۔ ’ میں نے زمین بنائی اور اس پر انسان کو پیدا کیا اور میں ہی نے ہاں میرے ہاتھوں نے آسمان کو تانا اور اسکے سب لشکروں پر میں نے حکم کیا‘ (یسعیاہ ۴۵ : ۵  ،  ۱۲ )۔

جب ہم خدا کی موجودگی کے امکان کا تذکرہ کرتے ہیں تو بائبل بیان کرتی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس معقول شہادتیں ہیں لیکن انہوں نے خدا کے متعلق سچائی کو ضبط کرلیا ہے ۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو خدا کے متلاشی ہیں اگر وہ موجود ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے ۔ جب تم مجھے سچے دل سے ڈھونڈو گے تو میں تمہیں مل جاؤں گا (یرمیاہ ۲۹  : ۱۳ )

 اگر خدا خود ہماری رہنمائی نہ کرتا تو ہم اس کو جان نہ سکتے۔دراصل   ہم اس کے بارے میں اتنا ہی جان سکتے ہیں جتنا اس نے ہمیں واقفیت بخشی۔  وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور ہمیں ہمیشہ اس کی مدد کی ضرورت رہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہم پر ظاہر کرے۔ تخلیق شدہ کائنات ان بہت طریقوں  میں سے ایک ہے جن کے ذریعے وہ ایسا کرتا ہے۔

ایک مرتبہ کسی شخص نے حضور المسیح سے سوال کیا کہ ’سب حکموں میں اول کون سا ہے۔‘ تو انہوں نے جواب دیا  ’خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ‘ (مرقس  ۱۲ : ۲۹ ۔ ۳۱ )

نہ تو خدا کی ابتدا ہے اور نہ انتہا۔ کیونکہ وہ ازلی اور ابدی ہے۔ ہم مسیحیوں کا یہ ایمان ہے کہ وہ رب العالمین ہے ، وہ جہانوں کا ملک ہے ، وہ خدا قادر مطلق ہے اور علم کل رکھتا ہے۔ وہ دیکھی اور اندیکھی تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس نے سب کچھ اپنے کلام کے وسیلہ سے پیدا کیا ہے۔ ( یوحنا ۱ : ۱۰ )  اپنی خلق کردہ چیزوں کے ذریعے سے وہ ا پنی عظیم الشان قدرت ، پرجلال ذہانت اور انتہائی اعلی قوت تخیل دکھاتا ہے ۔

ذرا آسمان کی طرف اٹھا کر چمکتے سورج ، چاند اور ستاروں کو دیکھئے۔ ذرا اپنی چاروں طرف قدرت کے حسین مناظر پر نظر ڈالئے اور یقیناً آپ بھی حضرت داؤد نبی کی طرح بے اختیار کہہ اٹھیں گے ’آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اس کی دست کاری دکھاتی ہے‘  ( زبور ۱۹ : ۱) ۔

 کلام مقدس میں مرقوم ہے۔ ’خدا   کی ان دیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کو کچھ عذر باقی نہیں‘ (رومیوں ۱ : ۲۰) ۔خدا کا علم کتنا گہرا اور اس کی قدرت کتنی عجیب ہے کہ وہ آسمان پر سورج کو قائم رکھتا ہے اور زمین پر ننھے ننھے پھولوں اور کیڑے مکوڑوں کو زندگی بخشتا ہے۔ خدائے قادر مطلق ہے جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔ اس جہاں کی تخلیق  میں خدا کا ایک مقصد ہے اور کوئی بھی ہستی اسے اس مقصد کو پورا کرنے سے روک نہیں سکتی ۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا عظیم  ترین ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ عادل اور سراسر پاک ہے۔ پرانے زمانے میں یونانی اور رومی دیوی دیوتاؤں کی پرستش کیاکرتے تھے۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ ان کے دیوی دیوتا انسانوں کی طرح جھوٹ، چوری، قتل ، زنا اور دیگر برائیوں کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس مسیحیوں کی کتاب بائیبل میں خدا کی مکمل پاکیزگی کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے۔

رب العزت کے پیارے بندے یوحنا نے رویا میں چند آسمانی مخلوقات کو دیکھا جو خدائے بزرگ و برتر کے حضور کھڑے یوں اس کی حمد و  ستائش  کر رہے تھے ’قدوس ، قدوس ۔ خداند خدا قادر مطلق ‘ ( مکاشفہ ۴ : ۸ )۔ اگرچہ خدا قادر مطلق ہے تو بھی وہ اپنی پاک سرشت کے برعکس کچھ نہیں کرسکتا۔ یعنی نہ وہ جھوٹ بول سکتا ہے اور نہ ہی بے انصاف ہو سکتا ہے ۔ خدا نہ ہماری طرح محدود ہے ، نہ وہ جسم رکھتا ہے اور نہ ہی وہ ہماری طرح وقت کا پابند ہے ۔ بلکہ وہ ہر وقت ہر جگہ موجود ہے۔

                بعض اوقات ہم خدا کے ہاتھ ، اس کی آنکھوں  یا دل کا ذکر کرتے ہیں لیکن ہم ان جسمانی اعضاء کو روحانی مطلب بیان کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔گو خدا جلال اور حشمت سے بھرپور نہائت سر بلند ہے تو بھی ہم مسیحی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے بہت قریب ہے ۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی آنکھو ں سے دیکھتا ، اپنے ہاتھوں سے سنبھالتا اور دل سے پیار کرتا ہے۔

                گو ہمارے نزدیک خدا کی تمام صفات بڑی اہم ہیں ۔ ہم مسیحی خاص طور پر اس بات کے شکر گزار ہیں کہ جس خدا کی ہم دل وجان سے پرستش کرتے ہیں وہ خدائے محبت ہے ۔ خدا تعالیٰ کی اس اہم ترین صفت کے بارے میں انجیل مقدس میں یوں لکھا ہے کہ ’خدا محبت ہے ‘ ( ۱ یوحنا  ۴ : ۸  )۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ خدا کے تمام اقوال و افعال محبت کے تابع ہیں ۔ خدا اپنی محبت کا اظہار نہ صرف بارش برسانے ، سورج چمکانے ، روٹی پانی ، کپڑا اور دوسری ضروریات زندگی مہیا کرنے سے کرتا ہے بلکہ یہ بھی الٰہی محبت  کا اظہار ہے کہ اس نے ہمارے پاس اپنے  انبیاء اور پیغمبروں کو بھیجا تاکہ ہم زیادہ وضاحت سے خدا کے بارے میں جان سکیں اور اس کی پیروی کریں ۔ کلام مقدس کی رو سےخدا نہ صرف زندہ ہے بلکہ وہ عالم الغیب ہے ۔ خدا نور ہے ( ۱ یوحنا ۱ : ۵ )؛  خدا روح ہے ( یوحنا ۴ : ۲۴ ) اور خدا راستباز ہے ( رومیوں ۳ : ۲۶ ) ۔ خدا نے بنی نوع انسان کو اپنے جلال اور اپنی بزرگی  کے لئے پیدا کیا ( یسعیاہ ۴۳ :۷ )۔ اسے ہماری نہیں بلکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔

بائبل بتاتی ہے کہ خدا اپنے جاہ وجلال کے باوجود چاہتا ہے کہ اسے جانا جائے۔ اگرچہ خدا نادیدہ ہستی ہے۔ لیکن پھر بھی وہ  اپنی ساری مخلوق سے محبت کرتا ہے اور ان کی بھلائی اور بہتری کے لئے کوشاں ہے۔یہ وہ خدا ہے جس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے وقتاً فوقتاً اپنے نبی بھیجے  اور آخرکار ہماری نجات کے لئے اپنے زندہ کلام کو بھیجا جن کو ہم المسیح کے نام سے  جانتے ہیں۔ حضرت داؤد نبی نے خدا کی اس عظیم محبت کو بڑے خوبصورت الفاظ میں یوں بیان کیا ہے: ’ خداوند میرا چوپان ہے ۔مجھے  کمی نہ ہوگی ۔ وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔ وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے ‘ ( زبور ۲۳ : ۱ ۔ ۳ )

                اب شاید آپ کہیں کہ ہاں خدا پنے نیک اور پاک بندوں کو راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے ۔ مگر کیا وہ گناہ گاروں  کا بھی خدا ہے ؟کیا وہ رب کی حیثیت سے  ان سے بھی محبت کرتا ہے ۔ اگر آپ انسان کے لئے خدا کی عظیم محبت کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا اگلا پروگرام دیکھنا مت بھولئے گا۔